بڑا بریک تھرو، ایران نے پاکستان کو بڑی یقین دہانی کرادی،ٗافغانستان میں امریکی موجودگی خطے میں امن و استحکام کیلئے نہیں ،اپنے مفاد کیلئے ہے،دھماکہ خیز اعلان

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر جواد ظریف نے واضح کیا ہے کہ ایران کبھی بھی اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیگا،پاکستان اور ایران ایک ساتھ امن و ترقی کے راستے پر آگے بڑھیں گے ٗدونوں ملکوں کو یکساں سیکورٹی چلنجوں کا سامنا ہے،اس پر قابو پانے کیلئے تعاون جاری رکھیں گے ٗافغانستان میں امریکی موجودگی خطے میں امن و استحکام کیلئے نہیں اپنے مفادات کیلئے ہے۔ہمیں اپنے مسائل خود حل کرنا ہونگے ،نئے بلاکس بنانے کی ضرورت نہیں۔ہفتہ کو انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد میں ’’پاک ایران تعلقات کے 70سال‘‘سے

متعلق عوامی مذاکرے کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات سات دہائیوں پر محیط ہیں جو نہ صرف سیاسی نوعیت بلکہ مشترکہ عقیدے،ثقافت اور بھائی چارے کے مستحکم بنیادوں پر استوار ہیں۔تعلقات میں اتار چڑھاو آتے رہتے ہیں لیکن ایران اور پاکستان کبھی بھی ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ایران کبھی بھی اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال کرنیکی اجازت نہیں دیگا۔جب بھی ضرورت ہوئی ایران پاکستان کیساتھ کھڑا رہیگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے مابین سیاسی،اقتصادی،تجارتی،توانائی اور دیگر شعبوں میں دو طرفہ تعلقات مہیں مثبت پیشرفت ہو رہی ہے جبکہ گیس پائپ لائن اور دونوں ملکوں کے مابین بنکنگ کو فروغ دینے سے متعلق بات چیت جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ غربت،دہشت گردی اور پسماندگی ہمارے مشترکہ مسائل ہیں اور خطے کے تام ممالک ملکر اس پر قابو پاسکتے ہیں
انہوں نے کہاکہ یہ انتہائی بد قسمتی ہے کہ مسلم ممالک آپس میں دست و گریباں ہیں۔پاکستان اور ایران امت مسلہ اور خطے کو درپیش چیلنجوں پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہہم ایک خدا اور ایک ہی پیغمبر کے ماننے والے ہیں اور ہمیں اپنے باہمی اختلافات کو بھلا کر متحد ہونا ہوگا۔انہوں نے کہ غربت،دہشت گردی اور پسماندگی ہماری مشترکہ دشمن ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں مظبوط خطہ اور مستحکم و متحد امت مسلمہ قائم کرنیکی ضرورت ہے۔نئے بلاکس کسی مسلے کا حل نہیں بلکہ یہ یہ مزید اختلاف اور تقسیم کا باعث بنتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان سمیت تمام مسلم ملکوں کو سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم میں آگے جانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم امہ کا اتحاد ہماری پسماندگی اور مسائل ختم کرنیکا واحد حل ہے۔بھارت کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے جواد ظریف نے کہا کہ بھارت کیساتھ ہمارے تعلقات کسی دوسرے ملک کیخلاف نہیں،ایران کبھی بھی اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال کرنیکی اجازت نہیں دیگا۔خطے کی ترقی کیلئے ہمیں مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ چاہ بہار مسابقتی منصوبہ نہیں ہم پاکستان کو اس منصوبے میں کھلی شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گوادر اہم ترقیاتی منصوبہ اور ایران اسے چاہ بہار سے لنک کرنیکا خواہاں ہے۔
سعودی عرب کیساتھ تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ مذاکرات اور اعتماد سازی کی غرض سے پاکستان،انڈونیشیا،قزاخستان،روس اور کویت کت سربراہوں کی کوششوں کا مثبت جواب دیا لیکن بدقسمتی سے سعودی عرب نے ہمیشہ مسترد کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک دوسرے کو اس خطے سے علیحدہ نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا ایران نے مشکل وقت میں قطر کیلئے اپنے فضائی حدود کو اوپن کررکھا کیونکہ ایران ہمسایہ ملکوں کی سلامتی کو اپنی سلامتی سمجھتا ہے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شام ک
ا مسلہ طاقت سے حل نہیں کیا جاسکتا ۔شام کے تنازعہ کا صرف سیاسی حل ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کیلئے پر عزم ہیں اور دو طرفہ تجارتی حجم پانچ ارب ڈالر سالانہ کی سطح تک پہنچائیں گے۔قبل ازیں چیئر مین پلاننگ کمیشن سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان ایران کیساتھ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ اس وقت مشکل دور سے گزر رہا ہے ۔تمام مسلم ملکوں کا اتحاد ایران اور پاکستان کا مشترکہ مقصد ہے۔انہوں نے کہ ایران پر عالمی پابندیوں سے پاکستان بھی متاثر ہوا اور دونوں ملکوں کے مابین تجارتی و اقتسادی روباط سست روی کا شکار رہیں۔سرتاج عزیز نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں ملکوں کے مابین دو طرفہ تجارتی حجم پنچ ارب ڈالر سالانہ کی سطح تک پہنچائیں گے
قبل ازیں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور ایران کے وزیرخارجہ ڈاکٹر جوادظریف 2021 تک دو طرفہ تجارت کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے جبکہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کوعملی شکل دینے کے ضمن میں متعلقہ امور بشمول پائپ لائن کے بنیادی ڈھانچے کیلئے مالی وسائل اورسنیپ بیک شق کے حل کیلئے کام کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان مشترکہ ترقی اورخوشحالی کیلئے پرامن اورباہمی طورپرمربوط خطے کے اپنے وژن پر عمل پیراہے، پرامن اورمستحکم افغانستان خطے کی اقتصادی ترقی کیلئے اہمیت کا حامل ہے، اس ہدف کے حصول کیلئے پڑوسی ممالک ہونے کے ناطے پاکستان اورایران اہم کردارادا کر سکتے ہیں۔ پیر کویہاں وزیر اعظم سے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ ڈاکٹر جوادظریف نے ملاقات کی جس میں دونوں رہنماوں نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اورخطے میں امن اورسلامتی سے متعلق امورپرتبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے اس موقع پر دوطرفہ تجارت،سرمایہ کاری اورتجارتی روابط سمیت مختلف شعبوں میں ایران کے ساتھ باہمی استفادے کے حامل اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کے پاکستانی خواہش کااعادہ کیاہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان اورایران کے درمیان 2021ء تک دوطرفہ تجارت کے حجم کو 5ارب ڈالر سالانہ کی سطح پرپہنچانے کے ہدف کے حصول کیلئے دونوں ممالک کومل کربامقصد اقدامات کرنا ہوں گے۔وزیراعظم نے علاقائی اقتصادی استحکام سے استفادے کیلئے دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو فروغ دینے پر زوردیا۔وزیراعظم نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کو عملی شکل دینے کے ضمن میں متعلقہ امور بشمول پائپ لائن کے بنیادی ڈھانچے کیلئے مالی وسائل اورسنیپ بیک شق کے حل کیلئے کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان مشترکہ ترقی اورخوشحالی کیلئے پرامن اورباہمی طورپرمربوط خطے کے اپنے وژن پر عمل پیراہے، ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پرامن اورمستحکم افغانستان خطے کی اقتصادی ترقی کیلئے اہمیت کا حامل ہے، اس ہدف کے حصول کیلئے پڑوسی ممالک ہونے کے ناطے پاکستان اورایران اہم کردارادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کشمیری عوام کے اصولوں پرمبنی جدوجہد کی ثابت قدم تعاون پر ایران کی قیادت کا شکریہ اداکیا۔ایران کے وزیرخارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر رابطوں کی تعریف کی اورکہاکہ دونوں ممالک کی جانب سے اس ضمن میں اٹھائے جانیوالے اقدامات کے نتیجے میں اقتصادی اورعوام کے درمیان رابطوں میں اضافہ ہواہے جس میں مزیداضافے کی ضرورت ہے۔انہوں نے سرحدپارغیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کیلئے بارڈرمینجمنٹ کے ضمن میں پاکستانی اقدامات کی بھی تعریف کی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *