زینب قتل کیس: وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پر بڑی پابندی عائد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے کمیشن یا جوڈیشل کمیشن بنانے پر پابندی عائد کر دی۔نجی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سپریم کورٹ رجسٹری لاہور میں زینب قتل کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منظور اے ملک بھی شامل ہیں۔ دورانِ سماعت چیف جسٹس نے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے کمیشن یا جوڈیشل کمیشنبنانے پر پابندی عائد کر دی۔چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آئندہ کوئی کمیشن نہیں بنائے گا۔ تفتیش ہی اصل طریقہ

ہے جبکہ کمیشن بنا کر معاملہ کھوہ کھاتے ڈال دیا جاتا ہے۔،دریں اثنا چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں افتخارچودھری نہیں،ثاقب نثارہوں، ڈاکٹرصاحب !میں آپ کویہاں سے جانے نہیں دوں گا، آپ کانام ای سی ایل میں ڈال دوں گا۔دوران سماعت چیف جسٹس نے شاہد مسعود سے استفسار کیا کہ آپ اپنے پوائنٹ پر قائم کیوں نہیں رہے،رات 12بجے آپ کا پروگرام سنا اور صبح آپ کو بلایا،آپ نے ان باتوں کو تسلیم کیا،جو آپ نے بتایا آپ اسے ثابت نہ کر سکے۔ اینکر پرسن شاہد مسعود نے عدالت کے روبرو کہا ہے کہ میں تویہاں سے چلاجائوں گالیکن جوبات کررہاہوں وہ سچ ہے۔اس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ڈاکٹرصاحب !میں آپ کویہاں سے جانے نہیں دوں گا،آپ کانام ای سی ایل میں ڈال دوں گا۔اس پر اینکر پرسن نے کہا کہ افتخار چودھری کے دور بھی میں نے خبر بریک کی تھی اور سابق چیف جسٹس نے رات 12 بجے نوٹس لیا تھا۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہاکہ وہ خبر بھی آپ کی غلط نکلی تھی۔جی ٹی وی کے مطابق زینب قتل کیس میں سپریم کورٹ نے پرانی جے آئی ٹی کو ختم کرنے اس کی جگہ نئی جے آئی ٹی تشکیل دے دی ہے۔ بشیر میمن کو نئی جے آئی ٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *