پرویزمشرف نے 2000ء میں اٹک قلعے کی جیل میں نواز شریف کے اوپر کیاچیز چھوڑی تھی؟ اگر مشرف واپس آ گیا تو پھر کیاکرے گا؟ حامد میر کے چونکا دینے والے انکشافات

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران پرویزمشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے عدالت کے حکم کی تعمیل کی ہے، سابق صدر پرویز مشرف کے معاملے پر حامد میر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ٹوئیٹ میں کہا کہ نواز شریف سے اختلاف ضرور کریں لیکن تاریخی حقائق مت بھولیں مشرف نے 2000 میں اٹک قلعے میں نواز شریف پر بچھو چھوڑے تھے لیکن نواز شریف نے مشرف کو جیل میں ڈالا نہ بچھو سے ڈرایااور بھگا دیا

اب اگر مشرف واپس آ گیا تو وہ نجانے کس کے گلے میں چھپکلی بن کے پھنسے گا۔ واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما چوہدری نثار علی خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ای سی ایل کے160حوالے سے معاملات اوپن ہیں، میں نے پہلی بار ای سی ایل میں نام ڈالنے کے حوالے سے اختیارات وزیر سے لے کر کمیٹی کے سپرد کئے۔ کمیٹی فیصلہ کرتی ہے ای سی ایل میں نام ڈالنے کے حوالے سے اور اس کی وجوہات وزارت میں موجود ہوتی ہیں۔ اسمبلی میں بیان کو صحیح نہیں سمجھا گیا۔ میں نے نوازشریف سمیت کسی کے کیس کے حوالے سے بات نہیں کی۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے تھا کہ میں ن لیگ کا حصہ ہوں، میں ن لیگ کے کسی لوکل کنونشن میں کبھی نہیں گیا،پارٹی میں بات کرتا ہوں۔ بہت ساری چیزوں کی وضاحت کا وقت قریب آچکا ہے۔ میں نے ہر چیز کو بڑی خاموشی سے ہینڈل کیا، کابینہ میں آنے سے معذرت کر لی، اپنے حلقے تک محدود ہو کر رہ گیا۔ ن لیگ میں اپنے ہاتھوں سے اینٹیں لگائی ہیں، میرے حلقے میں میرے سیاست میں اترنے سے قبل مسلم لیگی امیدوار کی ضمانتیں ضبط ہوتی رہی ہیں بلکہ اس سے بھی آگے بہت کچھ ہوتا رہا۔                                                                                                                        مجھے سب سے پہلے یہ بتایا جائے کہ ن لیگ کا بیانیہ کیا ہے؟میرا موقف ہے جو میں نے نواز شریف کو بطور مشورہ بھی دیا کہ ہم نے عدلیہ سے لڑائی نہیں لڑنی، ہمیں اگر ریلیف ملنا ہے تو اسی سپریم کورٹ سے ملنی ہے، میرا موقف ہے کہ ہمارا انداز سیاسی ہونا چاہئے، سیاست کوئی ریسلنگ نہیں بلکہ راستہ نکالنے کا فن ہے۔ میرا کوئی کیس سپریم کورٹ میں نہیں، مجھے کوئی تمغہ نہیں ملنا، میری بات میں نواز شریف کی بھلائی ہے، ن لیگ کی بھلائی ہے اور اسی موقف سے ہمیں ریلیف ملے گا۔ میں نے اگر یہ بات پارٹی میں کی تو کیا کوئی غلط بات کی، کیا ن لیگ جمہوری جماعت نہیں جہاں موقف بیان نہیں کیا جا سکتا۔شہباز شریف سے ملاقات ہوتی رہتی ہے، بات بھی ہوتی ہے۔ جہاں تک پرویز مشرف کا تعلق ہے، وہ ڈھائی سال ای سی ایل پر رہے اس پر کوئی توجہ نہیں دیتا، تین سال کے اندر اگر کوئی فیصلہ نہ ہو تو ای سی ایل سے نام خود بخود نکل جاتا ہے یہ پالیسی ہے۔ پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں ڈالے جانے کے حوالے سے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلے سیاسی مخالفین پڑھیں اور خدا کا خوف کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *